Tuesday, October 17, 2023

شاهکار سید مودودی

غالبا، ان معترضین کو تحصیل زکوۃ کے معاملے میں ہمارا طریقہ کار معلوم نہیں ہے۔ ہم نے عام مسلمانوں سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنی زکوۃ ہمارے بیت المال میں داخل کریں، اور نہ ہم نے کبھی یہ کہا ہے کہ جو مسلمان زکوۃ ہمارے حوالے نہ کرے گا، اُس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ ہم صرف اپنی جماعت کے ارکان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی زکوۃ، جماعت کے بیت المال میں داخل کیا کریں۔ اس سے ہمارا بڑا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو شریعت کے منشا کے مطابق، اجتماعی طور پر زکوۃ جمع اور صرف کرنے کی عادت ہو۔ براہ کرم! کوئی ہمیں بتائے کہ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس میں کیا شرعی قباحت ہے اور یہ کسی حکیم شرعی کے خلاف ہے؟ اگر ہمیں لوگوں سے یہ کہنے کا حق ہے کہ نماز گھروں میں الگ الگ نہ پڑھو، بلکہ جماعت کے ساتھ پڑھو، تو آخر یہ کہنے کا حق کیوں نہیں ہے کہ زکوۃ انفرادی طور پر ادا کرنے کے بجائے، اجتماعی طور پر ادا کرو؟ پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اگر چندہ لیا جائے تو جائز ، داخلے کی فیس اور رکنیت کی فیس لگائی جائے تو درست ، مگر خدا اور رسول کے عائد کیے ہوئے فرض کو ادا کرنے کی دعوت دی جائے تو نا جائز ۔ بيت المال اس سے بھی زیادہ ایک نرالا اعتراض یہ ننے میں آیا کہ تم نے بیت المال کیوں بنایا ؟ اس قسم کے اعتراضات سن کر معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو شاید اسلام کی اصطلاحات ہی سے کچھ بغض ہو گیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ہر جماعت اور ہر انجمن، اپنا ایک خزانہ ضرور رکھتی ہے، تا کہ اجتماعی کاموں میں مال صرف کر سکے۔ ہماری جماعت کا بھی ایک خزانہ ہے اور اسے ہم بیت المال" کہتے ہیں، کیوں کہ یہی اسلامی اصطلاح ہے۔ اگر ہم اس کا نام خزانہ رکھتے تو انھیں کوئی اعتراض نہ تھا۔ اگر اسے ہم Treasury [ انجمن کا سرمایہ ) کہتے تب بھی یہ خوش ہوتے ، مگر جب ہم نے اس کے لیے، ایک اسلامی اصطلاح استعمال کی تو اسے یہ برداشت نہ کر سکے۔ ان اعتراضات میں سے اکثر اتنے مہمل تھے کہ میں ان کا ذکر کر کے اور اُن کا جواب دے کر، حاضرین کا وقت ضائع کرنا کبھی پسند نہ کرتا، مگر میں نے یہ چند چیزیں نمونے کے طور پر صرف اس لیے پیش کی ہیں کہ جو لوگ نہ خود اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، نہ کسی دوسرے کو ادا کرنے دینا چاہتے ہیں وہ کس قسم کے حیلے بہانے اور اعتراضات و شبہات ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور کس طرح خدا کے راستے سے خود رکھتے ہیں اور دوسروں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا طریقہ جھگڑے اور مناظرے کرنے کا نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص ہماری بات کو سیدھی طرح سمجھنا چاہے تو ہم ہر وقت اسے سمجھانے کے لیے حاضر ہیں، اور اگر کوئی ہماری غلطی ہمیں معقول طریقے سے سمجھانا چاہے تو ہم سمجھنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن اگر کسی کے پیش نظر محض اُلجھنا اور اُلجھانا ہی ہو، تو اس سے ہم کوئی تعرض کرنا پسند نہیں کرتے ۔ اسے اختیار ہے کہ جب تک چاہے، اپنا یہ تو باید شغل جاری رکھے

No comments:

Post a Comment

The Best Mobile SIM Options in Pakistan: Sajid Mobile & Ultimate Telecom's Top Picks

The Best Mobile SIM Options in Pakistan: Sajid Mobile & Ultimate Telecom's Top Picks In Pakistan, staying connected is more importan...